مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایرانی مسلح افواج کے مکمل اقتدار میں ہے۔ 28 فروری سے قبل آبی گزرگاہ مکمل طور پر کھلی تھی، تاہم ایران کو قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے بعض اقدامات کرنا پڑے، اور موجودہ حالات میں ایران کو اپنے ملک کی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری تدابیر اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمت کے بعد آبنائے ہرمز کی صورتحال کچھ زیادہ محفوظ ہوئی اور ایران نے اپنی ذمہ داریوں پر عمل کیا، لیکن امریکہ نے 23 روز بعد معاہدے کی خلاف ورزی کی اور اس کی جانب سے پیش کیے گئے بہانے بے بنیاد تھے۔ آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ امریکی اقدامات کا نتیجہ ہے اور اگر عالمی برادری ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر فکرمند ہے تو اسے امریکہ کو مورد الزام ٹھہرانا چاہیے۔
ترجمان نے ایران کے خلاف عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کی قرارداد کے بارے میں کہا کہ یہ قرارداد اس کے بانیوں کی الجھن کی عکاسی کرتی ہے۔ وہ پہلے دعوی کرتے تھے کہ اسنیپ بیک فعال ہوچکا ہے اور سابقہ قراردادیں واپس آچکی ہیں، جبکہ ایران، چین اور روس اس مؤقف کو نہیں مانتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ممالک نے امریکی دباؤ میں اسنیپ بیک کا عمل شروع کیا تھا۔ ایک سال بعد نئی قرارداد منظور کرانے کی کوشش سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ سال کا اقدام بے اثر رہا۔
بقائی نے سوال اٹھایا کہ جب ایران پر حملہ کیا گیا ہے تو وہ حملہ کیے گئے جوہری مقامات تک رسائی کیسے فراہم کرسکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ممالک کا طرز عمل جرمنی، فرانس اور برطانیہ کی مکمل پیروی پر مبنی ہے۔
اسماعیل بقائی نے سعودی عرب اور جاپان کے قرارداد کے حق میں ووٹ دینے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کی کوئی توجیہ نہیں ہے۔ یہ دونوں ممالک اس فیصلے کے نتائج کے ذمہ دار ہیں اور ایران انہیں جواب دہ بنائے گا۔
آپ کا تبصرہ